فلم انڈسٹری میں طاقت کا توازن بدل چکا، اے آر رحمان

بالی وڈ کے آسکر یافتہ موسیقار اور گلوکار اے آر رحمان نے حالیہ بیان میں فلم انڈسٹری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق فلم انڈسٹری میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور غیرتخلیقی افراد زیادہ فیصلہ ساز ہو گئے ہیں، جس سے تخلیقی آوازوں کا اثر کم ہو رہا ہے۔
اے آر رحمان نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے انٹرویو میں بتایا کہ پچھلے آٹھ سالوں میں انڈسٹری میں اہم فیصلے کرنے والوں کی نوعیت بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تخلیقی افراد زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے، لیکن اب غیرتخلیقی فیصلہ سازوں کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔
ان کے بیان کے بعد مختلف حلقوں میں تنقید اور بحث شروع ہو گئی۔ کچھ فنکاروں نے انہیں بغیر ثبوت الزام تراشی کرنے کا کہا جبکہ کچھ نے ان کے خیالات کی حمایت بھی کی اور موجودہ حالات پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: بشنوئی گینگ کی بی پراک کو جان سے مارنے کی دھمکی
بعد ازاں اے آر رحمان نے ایک ویڈیو پیغام میں وضاحت کی کہ ان کی بات غلط سمجھ لی گئی تھی اور ان کا مقصد کسی کو تکلیف دینا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف انڈسٹری میں تخلیقی اہمیت اور ذمہ داری کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمیشہ اظہار رائے اور مختلف ثقافتی آوازوں کو اہمیت دیتا رہا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال پر تنقید کے باوجود فلم انڈسٹری میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے، اور یہ بحث ابھی بھی جاری ہے کہ تخلیقی اور غیرتخلیقی افراد کے درمیان فیصلہ سازی کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔











